محضرنامہ — Page 64
۶۴ ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت اللہ جلد تر ان کا تدارک کر لیتی ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ عصمت کا مقام نہایت نازک اور نفیس اتارہ کے مقتضیات سے نہایت دُور پڑا ہوا ہے جس کا حاصل ہونا بجز تو قبر خاص الہی کے ممکن نہیں مثلاً اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ صرف ایک کذب اور دروغ گوئی کی عادت سے اپنے جمیع معاملات اور بیانات اور حرفوں اور پیشیوں میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور متنع ہو جاتا ہے۔بلکہ اگر اس کام کے کرنے کے لئے کوشش اور سعی بھی کرے تو اس قدر موانع اور عوائق اس کو پیش آتے ہیں کہ بالآخر خود اس کا یہ اصول ہو جاتا ہے کہ دنیا داری میں جھوٹ اور خلاف گوئی سے پر ہیز کرنا ناممکن ہے مگر ان سعید لوگوں کے لئے کہ جو سچی محبت اور پر جوش ارادت سے فرقان مجید کی ہدایتوں پر چلنا چاہتے ہیں۔صرف یہی امر آسان نہیں کیا جاتا کہ وہ دروغگوٹی کی قبیح عادت سے باز رہیں بلکہ وہ ہر نا کر دنی اور ناگفتنی کے چھوڑنے پر قادر مطلق سے توفیق پاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کا ملہ سے ایسی تقریبات شنیعہ سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے جن سے وہ ہلاکت کے ورطہ میں پڑیں کیونکہ وہ دنیا کا نور ہوتے ہیں اور اُن کی سلامتی میں دنیا کی سلامتی اور اُن کی ہلاکت میں دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے۔اسی جہت سے وہ اپنے ہر ایک خیال اور علم اور فہم اور غضب اور شہوت اور خوف اور طمع اور تنگی اور فراخی اور خوشی اور غمی اور محسر اور ٹیسر میں تمام نالائق باتوں اور فاسد خیالوں اور نا درست علموں اور ناجائز عملوں اور بے جا فہموں اور ہر ایک افراط و تفریط نفسانی سے بچائے جاتے ہیں اور کسی مذموم بات پر ٹھرنا نہیں پاتے کیونکہ خود خدا وند کریم اُن کی تربیت کا متکفل ہوتا ہے اور جس شاخ کو ان کے شجرۂ طیبہ میں خشک دیکھتا ہے اس کو فی الفور اپنے مرتبانہ ہاتھ سے کاٹ ڈالتا ہے اور حمایت الہی ہر دم اور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرتی رہتی ہے اور یہ نعمت محفوظیت کی جو اُن کو عطا ہوتی