محضرنامہ

by Other Authors

Page 41 of 195

محضرنامہ — Page 41

ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضامندی کے لئے پیدا کر لیتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظا ہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے نہ وہ چندا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔وہ ایسے آدمی کے مقابل پرجس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قومی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے یکس بھی قوی ہوں۔اسی طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میت ہے۔خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مر گیا ہے۔مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق کرتا ہے۔اور چونکہ کوئی شخص اس کے قانون کی حد بست نہیں کر سکتا، اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بدیسی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امرقانون قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حدیبت نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کر سکتا ہے ؟ (چشمہ معرفت صفحه ۹۷۷۹۶) " اے سننے والو! اسنو ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ۔اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔بلکہ وہ سنتا اور بولتا بھی ہے۔اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہو گی۔وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی