محضرنامہ

by Other Authors

Page 187 of 195

محضرنامہ — Page 187

JAZ حضرت بانی سلسلہ احمدیکا پر کرد انتباه اس محضر نامہ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ایک پر شوکت بیان پر ختم کیا جاتا ہے۔آپ نے امتِ مسلمہ کے علماء اور زعماء کو درد بھرے دل سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی ہے نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔۔۔۔۔اے لوگو ! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ مشکل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سُنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرے۔اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے۔اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔میں اُس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افتراء کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ میں اُس میں سستی کروں اگرچہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف سے باہم مل کر چلنا چاہیں۔انسان کیا ہے محض ایک کیڑا۔