محضرنامہ — Page 87
AL " " اور اسی کا نام ہے مگر عیسی بغیر کمر توڑنے کے آ نہیں سکتا ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۳ تا ۶ ) یا د رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اسکے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعیت ہو یا بلا واسطه متابعت آنفر صلی اللہ علیہ وسلم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوئی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہوگی مگر نبوت شریعیت والی یا نبوت مستقل منقطع ہو چکی ہے۔وَلَا سَبِيلَ إِلَيْهَا إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادَّعَى أَنَّهُ نَبِيُّ صَاحِبُ الشَّرِيعَةِ اَوْ مِنْ دُونِ الشَّرِيعَةِ وَلَيْسَ مِنَ الْأُمَّةِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَهُ السَّيْلُ الْمُنْهَمِرُ فَالْقَاهُ وَرَاءَهُ وَلَمْ يُغَادِرُ حَتَّى مَاتَ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء میں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔جیسا کہ وہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولُ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔اب ظاہر ہے کہ لکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے سو اس آیت کے پہلے حصہ میں جو امرفوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔سولیکن کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اٹھرا یا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اُس شخص کو