محضرنامہ — Page 82
دُنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک ہیں چاہا ہے کہ مکالمہ اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفت الہیتہ جو مدار نجات ہے مفقود نہ ہو جائے (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۸۰۲۷) " میں بڑے یقین اور دعوئی سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اور آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیشیش کرتا ہے اور چشمہ نبوت کو چھوڑتا ہے ئیں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختم نبوت توڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس مہر نبوت محمدی نہ ہو الحکم، ارجون نشر صت ) خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرمایا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے ان صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات انکو بخشا جاتا ہے جیسا کہ وہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رجالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبين یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔اب ظاہر ہے کہ لکین کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے سو ما اس آیت کے پہلے حصے میں جو امرفوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا سو لیکن کے لفظ سے ایسے تھایہ فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء عظھر ایا گیا۔