محضرنامہ — Page 81
A ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امریح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا وہ چمک اُٹھا اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کر کے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود یا جود پر ختم ہو گئے۔وَهَذَا فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ (براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۳ حاشیہ نمبر۱۱) جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غمخواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا بلکہ کیا با عتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرتے کے تجلیا تے کا پورا اور کامل حصہ اس کو یلیا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچے سکتا اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ المیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصولِ معرفت کی اصل جڑ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص امتی نہ ہو اس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔سوخدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص پنچھی پیروی سے اپنا امتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجودمونہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پاسکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہوسکتا ہے کیونگ منتقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے مگر ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ حض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہوا اور نارینشان