محضرنامہ

by Other Authors

Page 65 of 195

محضرنامہ — Page 65

۶۵ ہے۔یہ بھی بغیر ثبوت نہیں بلکہ زیرک انسان کسی قدر محبت سے اپنی پوری تسلی سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ازاں مجملہ ایک مقام تو حمل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے ان کو قائم کیا جاتا ہے اوران کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میستر نہیں آسکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوش گوار اور موافق کیا جاتا ہے اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہو کر اور اسباب عادیہ سے بجلی اپنے تئیں دُور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا اُن کے پاس ہزار ہا خانگی ہیں۔اُن کے چہروں پر تو نگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں کمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔سیرتِ ایثار ان کا مشرب ہوتا ہے اور خدمت خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا اگرچہ سارا جہان ان کا خیال ہو جائے اور فی الحقیقت خدا تعالیٰ کی ستاری مستوجب شکر ہے جو ہر جگہ اُن کی پردہ پوشی کرتی ہے اور قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متوتی ہوتا ہے جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّالِحِینَ لیکن دوسروں کو دُنیا داری کے دلآزار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی اور یہ خاصہ ان کا بھی محبت سے بہت جلد ثابت ہو سکتا ہے۔از ان جملہ ایک مقام مجتبے ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور اُن کے رگ و ریشہ میں اِس قدر محبت الہیہ تاثیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ اُن کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار