محضرنامہ

by Other Authors

Page 58 of 195

محضرنامہ — Page 58

کھنچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ قرار نہیں پڑتے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سُن کو پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے۔اس کی ہر ایک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کر لیتے ہیں اور آخر وہی ہے جو موجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہو جاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر ایک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالت جدیدہ زمانہ نے اسلام کو کسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کارگر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے۔ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث کو دہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ حال کے زمانہ میں بھی جب اول عیسائی واعظوں نے سمر اُٹھایا اور بد فہم اور نا دان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی طریق سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا۔آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں کپ پا کیا کہ اب وہ لوگ کیسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور ان کے لمبے چوڑے عذرات کو کیوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ پیٹے (ازالہ اوہام صفحہ ۲۸۲۲۸۱) " انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اُس پر گرتی اور اُس کے تقوی کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے۔وہ دور ہو جاوے مگر کیا وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح بار بار پڑتے ہیں اور پرہیز گاری کے