محضرنامہ

by Other Authors

Page 122 of 195

محضرنامہ — Page 122

۱۲۲ اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دُور کر دے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں تلوار کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہوں گے" (ملفوظات جلد سوم م) " اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں۔ا - دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری - -۲ بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔- ۳ - بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبرا وقت کی چمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے " اسیح ہندوستان میں منا ) "سوچنا چاہیئے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک بچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز نا واقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتاؤ مناسب ہے کہ بلا توقف اس کو قتل کر دیا جائے بلکہ ایسا شخص قابل رقم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور تعلق سے اس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اس پر ظاہر کی جائے نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے لہذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مهدی پیدا ہو گا جس کا نام امام محمد ہو گا اور مسیح اس کی مددکیلئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پرقتل کردیں گے نهایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو انسانیت کے تمام