محضرنامہ

by Other Authors

Page 100 of 195

محضرنامہ — Page 100

144 لحاظ سے آپنے آخری نبجھے ہی ہے۔آپ اُس وقت سے آخری نبی ہیں جس وقت ابھی آدم کو نبوت تو کیا انہیں یہ مادی وجود بھی عطا نہ ہوا تھا۔غرض سب نبوتیں نبوت محمدیہ کے تحت حاصل کی گئی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی نبوت کی خاطر اور اسی مقام محمدیت کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا تھا۔اس لئے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے کے باوجود ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی روحانی رفعت پہلے آسمان تک پہنچنے کے با وجود ختم نبوت میں خلل اندازی نہیں کر رہی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بیاں تک فرمایا ہے کہ میرے روحانی فرزند یعنی علمائے باطن جو مجھ سے قرآنی علوم حاصل کر کے قرآن کریم کی شریعیت کو زندہ اور تابندہ رکھیں گے اور ہر صدی میں آتے رہیں گے وہ بھی انہی انبیاء کی طرح ہیں جن میں سے کوئی پہلے آسمان تک پہنچا، کوئی دوسرے پر کوئی تیسرے پر کوئی چوتھے پر کوئی پانچویں پر کوئی چھٹے پر، اور ایک ایسا بھی پیدا ہو گا جو انتہائی عاجزی اور عشق کے سارے مراحل طے کرنے کے بعد اور محبت کی انتہائی رفعتوں کو پالینے کی وجہ سے ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم کے پہلو میں جاپہنچے گا اور ستید و مولی حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ پائیگا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے پر ختم نبوت کے منافی نہیں پڑتی اسی طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم روحانی فرزند کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمد یت میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کرتی۔دوسرے یہ تصویر، یہ حقیقت معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی کی روحانی رفعتیں سات آسمانوں میں محصور ہونے کی وجہ سے مقام ختم نبوت میں کوئی خلل نہیں ڈالتیں کیونکہ وہ ارفع مقام اس کے اُوپر کا مقام ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول کیلئے