محضرنامہ

by Other Authors

Page 80 of 195

محضرنامہ — Page 80

اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاکم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نہی کو ہر گز نہیں دی گئی، اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبيين ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نہی تراش ہے۔اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی " (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۷ حاشیہ) " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اِس اُمت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ علماء امتى كَانْبِيَاءِ بَنی اِسرائیل بھی حدیث میں آیا ہے۔اگرچہ محدثین کو اس پر جرح ہے مگر ہمارا نور قلب اس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بلا چون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے “ الحکم اگست شاه ) تمام رسالتیں اور نہو تیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو دتھا کمال کو پہنچ گئیں “ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۸۱۷۸۰) " بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل كمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی ہے بار رو بر نہ رہی اور ختم نبو تے آپنے پر نہ صرف زمانہ کے تاثر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالاتے نبوت تے آپنے پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفات البیتہ کے مظہر اتم تھے اسلئے آپ کی شریعیت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی ؛ لیکچر سیالکوٹ صفحه ۲ تا ۷ طبع اول ) وجود باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک نبی کے لئے منتظم اور کیمیکل ہے اور اس