محضرنامہ

by Other Authors

Page 56 of 195

محضرنامہ — Page 56

۵۶ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کیسی خاص اس کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر پیر طلب کی ہے یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت - خواہ بلحاظ مطالب مقاصد " خواہ بلحاظ تعلیم۔خواہ بلحاظ پیش گوئیاں اور غریب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھویہ معجزہ ہے (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۷۳۶) " قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اول مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔علاوہ اس کے یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اس پا یہ کا وہ کلام ہو گا۔سو وحی الہی میں بھی وہی رنگ ہو گا جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اُسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی ن بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا قُلْ اِنّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اور مَا اَرْسَلْنَكَ الا رَحْمَةَ لِلعلمين ، جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہواس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہو گا جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے۔" الملفوظات جلد سوم ص ) لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے بر کارتے الہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولا کریم سے ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ