محضرنامہ — Page 42
۴۲ خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جیکی کوئی طاقت کم نہیں۔وہ قریب ہے باوجود دُور ہونے کے اور دُور ہے باوجود نزدیک ہونے کے وہ تمثیل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے۔اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔وہ جمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور نظر ہے تمام محامد حقہ کا اور سرچشمہ ہے تمام خوبیوں کا اور جامع ہے تمام طاقتوں کا او مبدء ہے تمام فیضوں کا اور مرجع ہے ہر ایک شئی کا۔اور مالک ہے ہر ایک ملک کا اور تصف ہے ہر ایک کمال سے اور منزہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے۔اور مخصوص ہے اس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اسی کی عبادت کریں اور اس کے آگے کوئی بات بھی ان ہونی نہیں۔اور تمام روح اور اس کی طاقتیں اور تمام ذرات اور ان کی طاقتیں اسی کی پیدائش ہیں۔اس کے بغیر کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی۔وہ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور اس کو اُسی کے ذریعہ سے ہم پا سکتے ہیں۔اور وہ راستبازوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتا ہے اور اپنی قدرتمیں ان کو دکھلاتا ہے۔اسی سے وہ شناخت کیا جاتا ہے اور اسی سے اس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے بغیر جسمانی آنکھوں کے اور سُنتا ہے بغیر جسمانی کانوں کے اور بولتا ہے بغیر جسمانی زبان کے۔اسی طرح نیستی سے ہستی کرنا اس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پیدا کر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود وکھلا دیتا ہے۔نہیں اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔نادان ہے وہ جو اس کی قدرتوں سے انکار کرے۔اندھا ہے وہ جو اس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر ان امور کے جو اس کی شان کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید کے برخلاف ہیں۔اور وہ