محضرنامہ

by Other Authors

Page 40 of 195

محضرنامہ — Page 40

لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اُٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔پھر سب کے بعد سید الانبیاء و خیر الورٰی مولانا وستيدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے دَی فَتَد کی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی یعنی وہ نبی جناب الہی کے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوق کو جو حق اللہ اور حقوق العباد ہے ادا کر دیا اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا " (ضمیمه برا همین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۶۱ - ۶۲) " اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدا تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہلِ حق حضرات واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاقی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہ کا عقیدہ ہے یعنی یہ عقیدہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقہ کی یہ ذاتی خصوصیت ہے کہ عالم الغیب ہو مگر ممکنات جو ہالکتہ الذات اور باطلہ الحقیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزة اسمہ جائز نہیں۔اور جیسا ذات کی رُو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رُو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کے لئے نظرم علی ذاتہم عالم الغیب ہونا ممتعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں یا محدث ہوں یا ولی ہوں۔ہاں الہام الہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تابعین آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں۔تصدیق النبی صفحه ۲۶ - ۲۷) " اس کی قدر میں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔جب ایک شخص اس کے آستانے پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر