محضرنامہ

by Other Authors

Page 130 of 195

محضرنامہ — Page 130

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر انکار جہاد کا الزام واضح طور پر آپ کی تعلیم، مجاہدانہ زندگی اور فرمودات کے منافی ہے۔آپ کی ساری زندگی اسلام کی مدافعت تبلیغ اور جہاد کبیر یعنی جہاد بالقرآن میں صرف ہوئی۔آپ نے اپنے وقت میں اسلام کی تائید میں ہندو مذہب اور عیسائیت کی خطرناک یلغار کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا۔کا سر صلیب ہونے کی حیثیت سے آپ نے عیسائیوں کے گمراہ کن پراپیگینڈہ اور تثلیث کی باطل عمارت کو دلائل و براہین کے ساتھ پاش پاش کر دیا۔اس ضمن میں آپ کے چند اقتباسات پیش ہیں جن سے بخوبی واضح ہو جائے گا کہ آپ نے اسلام کی تائید میں عیسائیت کے خلاف جو عظیم الشان جہاد کیا اس کے پیچھے کتنا قوی اور والہانہ جذبہ کار فرما تھا۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- " خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام سیے قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ، کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے یسوس نہ عیسوی کی بیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو سیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے " تتمہ حقیقۃ الوحی ص ) 51۔ایک متقی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اس چودھویں صدی کے سر پر جس میں ہزاروں عملے اسلام پر ہوئے ایک ایسے مجدد کی ضرورت تھی کہ اسلام کی حقیقت ثابت کرے۔ہاں اس مجدد کا نام اس لئے مسیح ابن مریم رکھا گیا کہ وہ کس صلیب کے لئے آیا ہے اور خدا اس وقت چاہتا ہے کہ جیسا کہ میسج کو پہلے زمانہ میں یہودیوں کی صلیب سے نجات دی تھی اب عیسائیوں کی صلیب سے بھی اس کو نجات دے چونکہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنانے کے لئے بہت کچھ افتراء کیا ہے اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ مسیح کے نام پر ہی ایک شخص کو مامور کر کے اس افتراء کو