محضرنامہ — Page 121
چا ہیں۔یہ خدا تعالی کا ایک اٹل قانون اور تحکم اصول ہے، اور اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں تو یہ یمکن نہیں، اللہ تعالی لاف و گزان اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ تو حقیقی تقویٰ چاہتا ہے اور سچی طارت کو پسند فرماتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ) ملفوظات جلد اول صفحه ۶۰-۲۱) ” قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتداء میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا ان قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔(ستاره قیصریه ملا) یکی نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لا اکراه في الدين یعنی دینِ اسلام میں جبر نہیں تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کونسے سامان تھے (پیغام صلح مدد ) " مسیح موعود دنیا میں آیا ہے تاکہ دین کے نام سے تلوار اُٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنے حج اور براہین سے ثابت کر دکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت میں تلوار کی مدد کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اس کے حقائق و معارف و حج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں۔اس لئے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کیسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔