محضرنامہ

by Other Authors

Page 89 of 195

محضرنامہ — Page 89

محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبتوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام بل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ نامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ہاں اُمتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کا عہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اسی فیضان سے زیادہ ترظاہر ہوتی ہے اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچے جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یمکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا ه كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ راهْدِنَا الصّراط المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا۔اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی۔اور ساتھ اس کے وہ دُعاؤں کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا س کا سکھلانا بھی عبث ٹھرتا تھا مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد امت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کا علم تا مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچے گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ