محضرنامہ — Page 86
AM باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کی رُو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا۔لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسی کے اترنے سے فرق ضرور آئے گا اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنی گفت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غرب مصفے کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ، اب اگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کی رُو سے نہی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جسکے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لا يُظهر على عبہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اِس طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا ہی کوئی نہیں جس پر شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی السوال کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے۔وَمَن ادَّعَى فَقَدْ كَفَر- اس میں اصل بھی یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پر وہ معاشرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نہی کہلائے گا تو گویا مہر توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیرت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر قہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر پیس باوجود اس شخص کے عوامی نبوت کے جس کا نام لی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی ای محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر