محضرنامہ

by Other Authors

Page 55 of 195

محضرنامہ — Page 55

۵۵ قرآن عظیم کی اعلی وارفع شان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی نظر میں " خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اس لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں کیونکہ کلام الہی کے نزول کا قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمالی باطنی اس شخص کا ہوتا ہے جس پر کلام الہی نازل ہوتا ہے اسی قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہوچکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔آپ خاتم انبیین ٹھرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب مظہری میں قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے یعنی کیا باعتبار فصاحت و بالات کیا باعتبار ترتیب مضامین کیا باعتبار تعلیم۔کیا باعتبار کمالات تعلیم۔کیا باعتبار مرات تعلیم بغرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا