محضرنامہ — Page 188
IAA اور بشر کیا ہے محض ایک مصنفہ پس کیونکر میں جیتے وقیوم کے حکم کو ایک کیڑے یا کے لئے ٹال دوں جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم میں یقینا سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ ہے موسم جاؤں گا۔خدا سے مت لڑو ! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دونا (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۹۰۸) " میں نصیحتا اللہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور یک زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیا ر ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں پھر اگر میں کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یا درکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ کہیں خُدا سے آیا ہوں۔۔۔۔۔کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں ہیں وہ پودا نہیں ہوں کہ اُن کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔۔۔اے خدا! تو اس امت پر رحم کر۔آمین " ( اربعین نمبر ۴ صفحه ۵ تا ۷ )