محضرنامہ — Page 95
۹۵ یہ دکھا پانچ وقت فرضا اور اس کے علاوہ کئی اور وقت نفلا مسلمان پڑھتے ہیں۔اب سوال ہے کہ منعم علیہ گروہ کا رستہ کیا ہے؟ قرآن شریف نے خود اس کی تشریح فرمائی ہے۔فرمایا :۔وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا 0 ( النساء مع ) اگر مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں پر عمل کریں اور بشاشت کے ساتھ ان کی فرمانبرداری کریں تو ہم ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دیں گے۔پھر اس صراط مستقیم کی طرف ہدایت دینے کا طریقہ یوں بیان کیا ہے :۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَا وَلَكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيْكَ رَفِيقًا ل ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيْنَاه ( الناء ) اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے فا و لَكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ تو وہ ان لوگوں کے گروہ میں شامل کئے جائیں گے جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں کے گروہ میں اور صدیقیوں کے گروہ میں شہیں کے گروہ میں اور صالحین کے گروہ میں اور یہ لوگ سب سے بہتر ساتھی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فضل ہے اور اللہ تعالیٰ تمام امور کو بہتر سے بہتر جانتا ہے۔اِس آیت میں صاف بتا یا گیا ہے کہ منم علیہ گروہ کا رستہ وہ رستہ ہے جس پر چل کر انسان نبیوں میں اور صدیقوں میں اور شہیدوں میں اور صلحاء میں شامل ہوتا ہے۔بعض لوگ اس جگہ یہ کہ دیتے ہیں کہ یہاں " معر“ کا لفظ ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے خود منعم علیہ گروہ میں شامل نہیں ہوں گے حالانکہ اس آیت کے یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی بن جائیں گے کہ یہ لوگ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے لیکن اس گروہ میں شامل نہیں ہوں گے یعنی نبیوں کے ساتھ ہوں گے لیکن نبیوں میں شامل نہیں ہوں گے