حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ

by Other Authors

Page 4 of 22

حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ — Page 4

حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ بہن بھائی سمجھا، نہایت پیار سے ہم لوگ رہے۔میں بہت چھوٹی تھی ضرور ستاتی بھی ہوں گی، مگر ان کی شفقت میں کمی نہ آتی دیکھی۔ہمارے بچوں کے آپس میں رشتے ہوئے ایسے میں سو باتیں قدرتی ہو جاتی ہیں بد مزگی کی اور ہو سکتی تھیں انگر ہمارے ذاتی تعلقات پر بھی کوئی اثر نہ پڑا نہ انہوں نے ان رشتوں کو پہلے رشتہ کے درمیان میں کبھی بھی حائل ہونے دیا۔حضرت اماں جان کے بعد اور بھی محبت و شفقت خصوصیت سے ان کی جانب سے حاصل رہی۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان سے خاص تعلق تھا۔بہت کم اس زمانہ میں بات کرتے بڑوں سے میں نے ان کو دیکھا ، شام کو باہر صحن میں ) آنا تو مؤدب ہو کر بیٹھنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے بھی دوپٹہ بہت لپیٹ کر اوڑھے رکھنا ان کا طریق تھا جیسے پنجابی میں دُہری بنگل کہتے ہیں اب لڑکیوں نے شاید یہ طریقہ دیکھا ہی نہ ہو، اسی صورت میں دو پٹہ اوڑھ کر صحن میں نکلتی تھیں یہ ایک طرح کا گھر کا پردہ ہی ہوتا ہے۔حالانکہ اس وقت شروع میں پردہ والا کوئی خاص گھر میں نہ ہوتا تھا۔“ وو بہت دعائیں کرنے والی تھیں ، جب میرا پہلا بھتیجا ، نصیر احمد فوت ہو گیا اور پھر بچہ کافی عرصہ تک نہ ہو تو انہوں نے اولاد