ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 72 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 72

ہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں واللہ ایسا ہر گز نہیں مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اس کے قبضہ میں چلا جائے۔ابوسفیان بن حرب نے جواب دیا کہ اس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ہم اس بات کے ضامن ہوتے ( تاریخ الخمیس جلد 1 صفحہ 398) آنحضرت سلایا یہ تم کو اندازہ تھا کہ اہلِ مکہ خار کھائے بیٹھے ہیں ہر وقت چوکس اور چوکنا رہتے۔مسلمان خدا تعالیٰ پر مکمل بھروسہ اور توکل رکھتے تھے مگر ہرلمحہ پھیلنے والی خبریں انہیں قدرتی طور پر پریشان اور خوفزدہ رکھتیں اور وہ راتوں کو جاگتے رہتے۔سب سے زیادہ ذمہ داری آنحضور صالی ایم پر تھی اس لئے کہ آپ کو اپنے علاوہ سب مسلمانوں کا بھی فکر تھا۔آپ راتوں کو عموماً جاگتے رہتے۔ایک رات آپ بہت دیر تک جاگتے رہے اور پھر فرمایا کہ اگر اس وقت ہمارے دوستوں میں سے کوئی مناسب آدمی پہرہ دیتا تو میں ذرا سولیتا“۔( صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 88 حدیث 148 باب 114) اتنے میں ہتھیاروں کی چھنکار سنائی دی۔آپ نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی یا رسول اللہ میں سعد بن وقاص ہوں میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ پہرہ دوں۔آپ کو اطمینان ہوا تو آپ تھوڑی دیر کے لئے سو گئے۔ایک اور رات کی 72