ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 53 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 53

جن دنوں مسجد نبوی بن رہی تھی دوسرے صحابہ تو ایک ایک اینٹ اُٹھاتے تھے اور عمار بن یا سر دو دو اُٹھا کر لاتے تھے آنحضرت نے جب ان کی محنت کو ملاحظہ فرمایا تو محبت سے ان کی مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا افسوس اے عمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا تو انہیں جنت کی طرف بلاتا ہوگا اور وہ تمہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہوں گے۔چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا حضرت عمار حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں ان کی طرف سے باغیانہ خلافت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔مسجد کی عمارت پتھروں کی سلوں اور اینٹوں کی تھی جو لکڑی کے کھمبوں کے درمیان چن دی گئی تھیں اور چھت پر کھجور کے تنے اور شاخیں ڈالی گئی تھیں مسجد کے اندر چھت کے سہارے کے لئے کھجور کے ستون تھے اور جب تک منبر کی تجویز نہیں ہوئی انہی ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ آنحضرت سلیا مسلم خطبہ کے وقت ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے مسجد کا فرش کچا تھا اور چونکہ زیادہ بارش کے وقت چھت ٹپکنے لگ جاتی تھی اس لئے ایسے اوقات میں فرش پر کیچڑ ہو جاتا تھا چنانچہ اس تکلیف کو دیکھ کر بعد میں کنکریوں کا فرش بنوا دیا گیا۔شروع شروع میں مسجد کا رُخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا تھا لیکن بعد میں جب قبلہ کا رُخ تبدیل ہوا تو رُخ بدل دیا گیا مسجد کی بلندی اُس وقت دس فٹ اور طول ایک سو پانچ فٹ اور عرض نوے فٹ کے قریب تھا۔(سیرت خاتم النبین صفحہ 270) اس مسجد کے تین دروازے بنائے گئے تھے ایک دروازہ مسجد کے پیچھے یعنی جنوب کی طرف تھا دوسرے دروازے کا نام باب عاتکہ اور باب الرحمت تھا تیسرا دروازہ باب عثمان اور باب جبریل کہلاتا تھا یہی وہ دروازہ تھا جس سے آپ مسجد اور حجرے میں آتے جاتے تھے۔53