ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 51 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 51

یعنی اے ہمارے اللہ ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے پس تو اپنے فضل سے انصار و مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔( بخاری ابواب الہجرت وزرقانی ) " آپ نے صحابہ کو بتایا ہے کہ تم مخیر کی کھجوریں اور سبزیاں اکثر اٹھاتے ہو گے اور اس کے اُٹھانے میں تمہیں یہ خیال ہوتا ہوگا کہ ہم دنیا کا فائدہ اُٹھائیں گے اور مال کمائیں گے مگر یہ یادرکھو کہ خدا تعالیٰ کے لئے جو کام انسان کرتا ہے وہ گو بظاہر کیسا ہی ادنی معلوم ہو۔در حقیقت نہایت پاک اور عمدہ نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لا نا کہ ہم اس وقت ادنی کام کر رہے ہیں کہ مٹی اور اینٹیں ڈھو رہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کہ یہ اینٹیں جو تم ڈھو ر ہے ہوان کھجوروں اور میووں کے بوجھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سامان ہے ان میووں کے بوجھ کی ہستی ہی کیا کہ اس کے مقابلے میں اُسے رکھا جائے۔“ (سیرۃ النبی محضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 124) آنحضرت صلی یا اسلام نے انہیں بتایا کہ اس کام میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوگا اور بجائے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہوگی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیادہ کامیاب کون ہوسکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدایا یہ لوگ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لئے مشقت اُٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔“ سيرة النبي محضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 127) 51