ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 50 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 50

بلکہ جہاں اللہ تعالیٰ کی مرضی سے اونٹنی القصوری بیٹھی تھی اُسی جگہ کو مسجد نبوی بنانے کے لئے پسند فرما لیا۔یہ زمین دو بیتیم بچوں کی ملکیت تھی جہاں وہ کھجور میں سکھاتے تھے۔یہ بچے سہل اور سہیل اسعد بن زرارہ کی نگرانی میں پرورش پارہے تھے۔آپ نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت فرمائی انہوں نے کہا ہم آپ سے قیمت نہیں لیں گے بلکہ بخوشی بطور تحفہ دیتے ہیں مگر آپ نے بغیر معاوضے کے زمین لینے سے انکار کر دیا اور اصرار کے ساتھ قیمت ادا فرمائی۔یہ زمین کافی فراخ تھی اور اس پر کچھ کھنڈرات بھی تھے دراصل یہ شاہ تبع کے بنوائے ہوئے محل کا حصہ تھی جو وہ رسول خدا کے نام کر گیا تھا۔بہر حال آپ نے زمین ہموار کروائی اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔اس مسجد کی تعمیر میں سب بڑے بڑے مسلمانوں نے حصہ لیا۔کوئی مزدور بن گیا کوئی معمار بن گیا جس کے حصے میں جو کام آیا عین خوشی خوشی کیا اور تعمیر میں حصہ ملنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھا آنحضور بھی سب کے ساتھ کام میں شامل رہے۔حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری کے دو شعر اس موقع پر بلند آواز میں پڑھے جاتے۔آنحضور صلی یا اسلم بھی اپنی آواز اُن کی آواز میں ملا دیتے تو عجیب سماں بندھ جاتا۔هذا الحِمالُ لاحمال خيبر هذا آبرُ رَبَّنا وَاطْهَرُ یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لا کر آیا کرتا ہے بلکہ اے ہمارے مولیٰ ! یہ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کیلئے اُٹھاتے ہیں۔اللهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَةَ فارحم الانصار والمهاجرة 50