ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 40
میری اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر لگائی گئی ہے خود منزل تلاش کر لے گی۔اونٹنی خراماں خراماں رواں تھی۔حضرت بریدہ اسلمی نے ایک جھنڈا بنا لیا تھا وہ اُس کو لہراتے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے۔آخر ایک جگہ یہ اونٹنی بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ اونٹنی اٹھی اور آگے کی طرف چلنے لگی لیکن پھر چند قدم چل کر واپس آئی اور اُسی جگہ جہاں پہلے بیٹھی تھی دوبارہ بیٹھ گئی آپ نے فرمایا هذا انشاء الله المنزل یعنی اللہ تعالیٰ کی منشاء سے یہی ہماری منزل ہے ( بخاری کتاب الہجرت ) آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ زمین کس کی ملکیت ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ سہل اور سہیل دو یتیم بچے ہیں یہ زمین اُن کی ملکیت ہے آپ نے فرمایا میں اُنہیں معاوضہ دے کر راضی کرلوں گا پھر آپ نے فرمایا کہ یہاں سے سب سے قریب کس کا گھر ہے؟ ” میرا گھر ہے“ حضرت ابوایوب انصاری نے جواب دیا اور تیزی سے اونٹنی کی کاٹھی اُتار کر اپنے گھر لے گئے آپ نے مسکرا کر فرمایا انسان وہیں جاتا ہے جہاں اُس کا سامان ہوتا ہے۔گھر جاؤ اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔( بخاری کتاب الہجرت ) ابوایوب انصاری کا مکان دو منزلہ تھا انہوں نے رسول اللہ صلی یتیم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔انصار کو رسول اللہ لا یا یہ تم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہوگئی تھی ، اُس کا 40