ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 34 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 34

میں سے ایک اسعد بن زرارہ تھے جو امام نماز مقرر ہوے۔۔۔وہ جنگ بعاث میں شامل تھے اور ایک خزرجی رئیس اُن سے قتل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے قبیلہ اوس کے لوگ اُن کے خون کے پیاسے تھے۔اس لئے زیر زمین ہو گئے تھے۔آنحضور صلی سی ستم کی قبا میں تشریف آوری کائن لیا تھا مگر قدم بوسی کے لئے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔رات کا اندھیرا پھیلا تو منہ پر کپڑا لپیٹے ہوئے خاموشی سے حضور کے دیدار کے لئے آئے اور صبح کے اُجالے سے پہلے چلے گئے۔آنحضور نے قبیلہ اوس کے سرداروں سے فرمایا کہ اسعد کو پناہ دو۔یہ پہلا موقع تھا کہ آپ کی برکت سے دونوں قبیلوں میں صلح کی رسم پڑی سعد ابن خیمہ اسعد بن زرارہ کو ساتھ لے کر مدینے کی گلیوں سے گھومتے ہوئے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے جانی دشمن برکاتِ نبوت سے یک جان ہو گئے۔آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو انسانیت کے آداب سکھائیں اور پھر انسانیت کو ترقی دے کر اعلیٰ اخلاق سکھائیں اور پھر اعلیٰ اخلاق میں محبت الہی کے رنگ بھر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر ڈال دیں اتنا قریب کہ خدا کی رضا اُن کی رضا ہو جائے اور وہ خدا میں فنا اور محو ہو جائیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سب سے مقدم خانہ خدا کی تعمیر تھی۔چنانچہ آپ نے اپنے قبا کے قیام کے اگلے ہی دن یعنی 21 ستمبر 622ء مطابق 9 ربیع الاول 1ھ ایک مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔یہ زمین پر پہلی مسجد تھی جس کا سنگ بنیا درسول اللہ صلی ای ایم کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔روایت ہے کہ حضور نے صحابہ سے فرمایا۔قریب کی پتھریلی زمین سے پتھر جمع کر کے لاؤ۔پتھر جمع ہو گئے تو حضور نے خود ایک خط کھینچا اور خود اس پر پہلا پتھر رکھا۔پھر بعض بزرگ صحابہ سے فرمایا اس کے ساتھ ایک ایک پتھر رکھو پھر عام اعلان فرمایا کہ ہر شخص ایک ایک پتھر رکھے۔حضور خود بھاری پتھر اٹھا کر لاتے یہاں تک کہ جسم مبارک جھک جاتا۔پیٹ پر مٹی نظر المعجم الكبر للطبرانی جلد 24 صفحہ 318 مکتب ابن تیمیہ قاہرہ) آتی۔34