ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 33 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 33

آپ کی آمد کی خبر چند لمحوں میں پورے شہر میں پھیل گئی لوگ گروہ در گروہ آپ کی ملاقات کے لئے آنے لگے۔اس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔مدینہ کے اکثر لوگ آپ کی شکل سے واقف نہ تھے۔جب قبا سے باہر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپ کی طرف آرہے تھے تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ سادگی سے بیٹھے ہوئے تھے اُن میں سے ناواقف لوگ حضرت ابوبکر کو دیکھ کر جو عمر میں گو چھوٹے تھے مگر اُن کی ڈاڑھی میں کچھ سفید بال آئے ہوئے تھے اور اسی طرح اُن کا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بہتر تھا یہی سمجھتے تھے کہ ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بڑے ادب سے آپ کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔حضرت ابوبکر نے جب یہ بات دیکھی تو سمجھ لیا کہ لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے۔وہ جھٹ چادر پھیلا کر سورج کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا یا رَسُول الله ! آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے میں آپ پر سایہ کرتا ہوں اور اس لطیف طریق سے اُنہوں نے لوگوں پر اُن کی غلطی کو ظاہر کر دیا۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 137) کلثوم کے مکان کے قیام کے دوران آپ نے دریافت فرمایا اسعد بن زرارہ نظر نہیں آرہے“ یہ خوش نصیب شخص جس کی آنحضور سانیاں پہنم کی آنکھوں کو تلاش تھی مدینہ کے اولین مسلمانوں میں سے تھے جو پہلی بیعت عقبہ میں شامل تھے۔اور مدینہ میں تبلیغ اسلام کرتے تھے۔دوسری بیعت عقبہ میں شامل ہونے والے بہتر (72) اشخاص کے آپ نے بارہ نقیب مقرر فرمائے جن 33