ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 18 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 18

کوئی غم نہیں مگر خدا تعالیٰ اس وقت نہ صرف میرا محافظ ہے بلکہ تمہارا بھی۔اور وہ ہم دونوں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔“ ( سيرة خاتم النبین صفحہ 239،238) یار غار، رفیق صدیق حضرت ابوبکر کس قدر خوش ہوئے ہوں گے کہ آپ نے معنا فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ صرف رسول اللہ کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ابوبکر کے ساتھ بھی ہے۔سبحان اللہ غار کے اندر یہ دن اس طرح گذرے کہ حضرت ابوبکر کا ایک غلام عامر بن فہیرہ دن بھر شہر میں بکریاں چراتا رہتا شام کے اندھیرے پھیلتے تو بکریوں کو گھر لے جانے کے لئے ہنکاتا ہوا غار کے آگے سے گذرتا اس دوران خاص طور پر ایسی بکری کو جو بہت دودھ دے سکتی ہو غار کے آگے کر دیتا۔غار کے پناہ گزین اس سے تازہ دودھ حاصل کر لیتے۔اس طرح غار کے ارد گرد قدموں کے نشان بھی مٹ جاتے۔عامر بن فہیرہ حسب معمول بکریوں کو آواز دیتا ہوا مکہ کی طرف روانہ ہو جاتا۔اسی دودھ پر ان کا گزارا تھا۔حضرت ابوبکر کے بیٹے عبداللہ ذہین اور ہوشیار تھے۔اُن کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا کہ دن بھر سادگی کے ساتھ جیسے عام آدمی رہتے ہیں شہر میں گھو میں پھریں اور دشمن کے منصوبوں کا اندازہ لگائیں۔اور رات کو اندھیرے میں غار ثور میں آکر دن پھر کی رپورٹ دیں۔رات کو عبداللہ غار ہی میں سو ر ہتے صبح منہ اندھیرے اُٹھ کر شہر آ جاتے مکہ والوں کی صبح ہوتی تو عبداللہ وہیں موجود ہوتے کسی کو شک بھی نہ ہو سکا۔تین رات آپ غار ثور میں اسی طرح رہے۔تیسرے دن صبح کے وقت آپ غار سے نکلے ( بخاری باب الہجرت) یہ پیر کا دن تھا 28 صفر 1ھ بمطابق 11 ستمبر 622ء ( دوست محمد شاہد قمری شمسی کیلنڈر ) بعض دوسری روایات میں رات کا وقت لکھا ہے جو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اس وقت آپ کی عمر مبارک ترین (53) سال تھی۔( سيرة خاتم النبيين ) 18