ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 17
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔میں رسول کریم کے ساتھ غار میں تھا میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسولِ کریم سے عرض کیا یا رسول اللہ اگر کوئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا یعنی ہر گز کوئی فکر نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پھر فرمایا مَاظُنُّكَ يَا أَبَا بَكْرِ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِقُهُما اے ابوبکر تم ان دو شخصوں کے متعلق کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسرا خدا ہے۔بخاری باب مناقب المهاجرين وفَضْلِهِمْ ) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب قریش غار کے منہ کے پاس پہنچے تو حضرت ابوبکر سخت گھبرا گئے۔آنحضرت صالنا تم نے ان کی گھبراہٹ کو دیکھا تو تسلی دی کہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔اس پر حضرت ابوبکر نے رفت بھری آواز میں کہا إِنْ قُتِلْتُ فَآنَارَجُلٌ وَاحِدٌ وَإِنْ قُتِلْتَ اَنْتَ هَلَكَتِ الْأُمَّةُ (زرقانی) یعنی " یا رسول اللہ ! اگر میں مارا جاؤں تو میں تو بس اکیلی جان ہوں لیکن اگر خدانخواستہ آپ پر کوئی آنچ آئے تو پھر گویا ساری اُمت کی اُمت مٹ گئی اس پر آپ نے خدا سے الہام پا کر یہ الفاظ فرمائے کہ لا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنَا ( سورة توبه : 40) یعنی اے ابوبکر ! ہرگز کوئی فکر نہ کرو کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دونوں اس کی حفاظت میں ہیں یعنی تم تو میرے وجہ سے فکرمند ہو اور تمہیں اپنے جوش اخلاص میں اپنی جان کا 17