ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 12 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 12

کر دیا جائے۔گھر کے باہر یہ خونی منصو بہ باز جاگ رہے تھے اور گھر کے اندر آنحضرت حضرت علی کو سمجھا رہے تھے کہ اُن کے پاس مکہ والوں کی امانتیں ہیں۔جو اُن کو لوٹانی ضروری ہیں۔میں ہجرت کر رہا ہوں تم ابھی یہیں ٹھہرو یہ امانتیں واپس کئے بغیر تم ہجرت نہ کرنا۔میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور بالکل مطمئن رہو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔امانتیں لوٹا کر تم بھی مدینے آجانا۔حضرت علی ساری بات سمجھ گئے اور حسب ارشاد آپ کے بستر پر لیٹ گئے آپ نے اپنی چادر جو سرخ رنگ کی تھی حضرت علی کو اوڑھادی۔اور خاموشی سے اپنا گھر چھوڑ دیا۔” جب رسول کریم صلی یا یہ تم رات کے وقت اُن لوگوں کے پاس سے گذرے تو اُن میں سے بعض نے آپ کو دیکھا بھی مگر انہوں نے خیال کر لیا کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو شائد آپ سے ملنے کے لئے آیا ہو گا اور اب واپس جارہا ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ رسول کریم ملایا یہ ہم نہایت دلیری کے ساتھ باہر نکلے تھے اور آپ کی طبیعت پر ذرا بھی خوف نہیں تھا۔انہوں نے سمجھا کہ اتنی دلیری سے آپ اس وقت نکلنے کی جرات کہاں کر سکتے ہیں یہ ضرور کوئی اور آدمی ہے جو آپ سے ملنے کیلئے آیا ہو گا اس کے بعد انہوں نے دروازے کی دراڑ میں سے اندر جھانکا یہ اطمینان کرنے کیلئے کہ کہیں آپ باہر تو نہیں نکل گئے تو انہوں نے ایک آدمی کوسو یا ہوا دیکھا اور خیال کیا کہ یہی رسول کریم صلی پیتم ہی۔غرض ساری رات وہ آپ کے مکان کا پہرہ دیتے رہے پھر جب مناسب وقت سمجھا تو اندر داخل ہوئے اور شائد انہیں جسم سے شک پڑ گیا کہ یہ جسم آنحضرت کا نہیں انہوں نے منہ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھایا شاید منہ نگا تھا۔بہر حال انہیں معلوم ہوا کہ سونے والے شخص حضرت علی ” ہیں رسول 12