ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 11 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 11

یا رسول اللہ مجھے بھی ساتھ ہی جانے کی اجازت دیجئے۔الصحبہ یا رسول اللہ رسول کریم نے فرمایا بہت اچھا" ( بخاری جلد اول کتاب المناقب باب ہجرت النبی واصحابہ الی المدینہ ) خوشی سے حضرت ابوبکر کے آنسو جاری ہو گئے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے اس وقت تک کسی شخص کو خوشی سے روتے نہیں دیکھا تھا۔(طبری وابن ہشام) حضرت ابوبکر نے اس رفاقت کے لئے تیاری بھی کر رکھی تھی بڑے ادب سے عرض کیا۔یا رسول اللہ میں نے ہجرت کی تیاری میں دو اونٹنیاں بول کی پتیاں کھلا کھلا کر پال رکھی ہیں ان میں سے ایک آپ قبول فرمالیں آنحضرت نے فرمایا: ٹھیک ہے مگر قیمت لوں گا حضرت ابوبکر نے مجبوراً قیمت دینا قبول کر لیا آپ نے حضرت ابوبکر سے راز داری کے ساتھ کچھ باتیں کیں اور واپس تشریف لے گئے۔حضرت ابو بکر کے گھر سفر کی تیاری ہونے لگی۔کھانا تیار کر کے چمڑے کے برتن میں بند کیا گیا اس کو باندھنے کے لئے کپڑے کی ضرورت تھی حضرت عائشہ کی بہن اسماء نے اپنے نطاق ( کمر پر باندھنے والے کپڑے) کو پھاڑ کر دوٹکڑے کیا ایک ٹکڑا کھانے کے برتن پر باندھ دیا اور دوسرا پانی کے برتن پر باندھ دیا اس وجہ سے انہیں ذات النطاقین یعنی دو طاقوں والی بھی کہتے ہیں۔( بخاری کتاب الہجرت و کتاب الاطعمه ) رات ہوئی تو مختلف قبائل کے ظالم ترین لوگ اپنے منصوبہ قتل کے ساتھ آپ کے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے۔انہوں نے گھر کو مکمل گھیرے میں لے لیا۔ننگی تلوار میں سونتے وہ انتظار میں بیٹھ گئے تا کہ جوں ہی رسول کریم ہے گھر سے نکلیں لپک کر آپ کا کام تمام : 11