ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 4
سفر نہ کر سکتے تھے یا اتنے غریب تھے کہ سفر کا سامان نہ تھا یا پھر مجبور تھے کہ رشتہ داریاں ایسی تھیں کہ ان کے لئے جانا مشکل تھا۔کچھ بچارے ایسے بھی تھے جو قریش کی قید میں تھے۔ان کے علاوہ سب نے مکہ چھوڑ دیا۔مسلمانوں کا مکہ سے نکلنا ڈھکا چھپا نہ رہا۔جب بھی کوئی خاندان ہجرت کر تا قریش مکہ کو اپنی شکست محسوس ہوتی کہ یہ ہم سے بچ کر کیسے نکل گئے۔اور اپنے شکار کو ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ جاتے۔غصے اور جھنجھلاہٹ میں وہ پہلے سے بڑھ کر ظلم کرنے لگے انہیں اس بات پر طیش آتا کہ مکہ میں دب کر ، جھک کر بے بسی سے رہنے والے مدینہ میں جا کر آزاد فضا میں کیوں رہنے لگے پھر یہ بھی خوف تھا کہ آزاد فضا میں رہ کر متحد ہوکر طاقت ملنے پر وہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے قابل نہ ہو جائیں اس خیال سے وہ مکہ سے جانے والوں کے راستے میں روڑے اٹکانے لگے۔ابو جہل نے عجیب حرکت کی ایک سادہ دل مسلمان کو جن کا نام عیاش تھا جھوٹ موٹ باتوں میں لگا کر واپس لے آیا جب مکہ قریب آیا تو چالا کی اور دھو کے سے ہاتھ پاؤں باندھ کر اونٹنی پر ڈال دیا اور سب کو بتانے لگا کہ جس طرح ہم عیاش کو واپس لے آئے اسی طرح باقی لوگ بھی اپنے اپنے جاننے والوں کو واپس لے آئیں۔وہ ہجرت کا ارادہ کرنے والوں کو طرح طرح کا دُکھ دینے لگے۔ابتدائی مہاجرین میں ایک حضرت صہیب تھے جو کافی مالدار تھے اپنا سامان باندھ کر مدینہ جانے لگے تو قریش نے کہا یہ مال تم ساتھ نہیں لے جاسکتے حضرت مہیب نے فرمایا یہ سب مال و دولت تم رکھو مجھے جانے دو۔اپنا مال قربان کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا ” صہیب نے بڑا نفع حاصل کیا دنیا کا مال قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لی۔حضرت صہیب کے بعد ابن ام مکتوم نے ہجرت کی جو لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے پھر بلال ، سعد بن ابی وقاص اور عمار بن یاسر نے ہجرت کی۔( حدیث نمبر 3647 بخاری شریف باب 15 صفحہ 144) 4