ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 56 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 56

پہاڑ مجھے دکھائی دیں گے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں رسول اللہ کے پاس آئی اور ابوبکر و بلال کا حال آپ سے بیان کیا آپ نے دعا کی۔”اے اللہ مدینہ بھی ہمیں ایسا ہی پیارا بنا جیسا کہ مکہ سے ہمیں محبت ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اور اس کو صحت بخش بنا اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مد ( ناپنے کے پیمانے میں برکت دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جا کر حجفہ میں ڈال دے۔“ بخاری باب 15 حدیث 3658) اللہ تعالیٰ نے یہ دعاسنی اور دو باٹل گئی۔مدینہ میں مسلمانوں نے زیادہ تر مسجد نبوی کے اردگر دجگہ لے کر گھر بنالئے مگر جن کو قریب جگہ نہ ملی انہیں جہاں جگہ میسر آئی مکان بنالئے۔نماز کا وقت ہوتا تو اندازے سے مسجد نبوی میں جمع ہو کر آنحضور کی امامت میں نماز ادا کرتے۔مگر مکان دور ہونے کی وجہ سے ایک مقررہ وقت پر جمع ہونا مشکل تھا۔اس بات کے لئے مشورہ ہونے لگا کہ کس طرح سب مسلمان ایک وقت میں نماز کے لئے جمع ہو جا ئیں کسی صحابی نے مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس بجایا جائے کسی نے یہودیوں کی طرح بگل بجانے کا مشورہ دیا کہ کوئی آدمی مقرر کر دیا جائے جو اونچی آواز سے اعلان کرے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔یہی رائے آنحضور کو پسند آئی۔حضرت بلال کی آواز بلند تھی آپ نے حضرت بلال کو ارشاد فرمایا کہ نماز کے وقت بلند آواز میں الصلوۃ جامعہ پکارا کریں تا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔مسلمانوں کو اس آواز پر مسجد میں جمع ہونے کی عادت ہوگئی اگر کسی اور کام کے لئے مسلمانوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہوتی تو یہی آواز دی جاتی۔کچھ عرصہ یہی طریق جاری رہا ایک دن ایک صحابی عبد اللہ بن زید انصاری کو خواب میں آذان کے الفاظ سکھائے گئے۔وہ آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک 56