ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 52 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 52

آنحضرت صلی لا یتیم کے ارشاد پر قربان ہونے والوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھے مگر آپ کا یہ حال ہے کہ خود اپنے جسم مبارک پر اینٹیں لاد کر ڈھو رہے ہیں۔یہ وہ کمال ہے جو ہر ایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشم بصیرت رکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ پاک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ایک گھر بن رہا ہے اور آپ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں شامل ہیں خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو لا کر دیتے ہیں یہ وہ عمل تھا جس نے آپ کو ابراہیم علیہ السلام کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابراہیم نے خود مینٹیں ڈھو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارث علوم سماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے احباب کی مدد کی۔کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پاکبازی اور زبانی جمع خرچ کرنے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آکر سب مدعیانِ تقویٰ کو آپ کے سامنے با ادب سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سلی یہ تم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا آپ اُس معبود حقیقی کی رضا کی تمام راہوں میں دوسروں سے آگے قدم مارتے تھے تو دوسری طرف یہ امر بھی روشن ہو جاتا ہے کہ آپ ماتحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپ ہی تھے۔“ (سیرت النبی محضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صفحہ 123) 52