ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 44
انس " رسول اللہ سی ایتم کی صحبت میں اسلام کے بہت بڑے عالم ہوئے اور آہستہ آہستہ بہت بڑے مالدار ہو گئے انہوں نے ایک سو سال سے زیادہ عمر پائی اور اسلامی بادشاہت میں بہت عزت کی نگاہ کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔انس کا بیان ہے کہ میں نے چھوٹی عمر میں رسول اللہ لا یا یتیم کی خدمت کا شرف حاصل کیا اور آپ کی زندگی تک آپ کے ساتھ رہا کبھی آپ نے مجھ سے سختی کے ساتھ بات نہیں کی کبھی جھڑ کی نہیں دی کبھی کسی ایسے کام کے لئے نہیں کہا جو میری طاقت سے باہر ہو۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 139 ) ایک خادم کی اپنے آقا کے حسنِ اخلاق کے متعلق اتنا خوبصورت بیان ظاہر کرتا ہے کہ عام گھریلو زندگی میں بھی آپ کس قدر اعلیٰ برتاؤ کا انداز اختیار فرماتے تھے آپ حضرت انس کو اس طرح پیار کرتے جیسے والدین اپنے حقیقی بیٹے کو کرتے ہیں آواز دیتے تو بیٹا کہتے یا انیس اور کبھی لاڈ سے یا ڈالا ذنین (اے دوکانوں والے) فرماتے۔ہجرت کے شروع کے دنوں کا ایک اور واقعہ ہے آنحضرت مصلای ایلام مع تمام مہاجرین کے انصار کے مہمان تھے۔دس دس آدمیوں کی ایک ایک جماعت انصاریوں کے ایک ایک گھر میں اُتاری گئی تھی۔مقداد بیان کرتے ہیں کہ میں اس جماعت میں تھا جس میں خود آنحضرت صلا نیلم شامل تھے ہمارے والے گھر میں چند بکریاں تھیں انہیں کے دودھ پر گزارا تھا دودھ دوھ کر سب اپنا اپنا حصہ پی لیتے اور آپ کے لئے ایک پیالہ میں رکھ چھوڑتے ایک رات آنحضرت صلای ایام کو واپس تشریف لانے میں بہت دیر ہوئی تو سب لوگ دودھ پی پلا کر سور ہے آپ کے لئے کچھ نہ چھوڑا شاید یہ خیال کیا کہ باہر کھانا کھالیں گے آنحضرت سلام تشریف لائے دودھ پینے لگے تو دیکھا پیالہ خالی تھا کسی سے کچھ نہ کہا پھر کچھ دیر کے بعد فرمایا یا اللہ ! جو آج ہمیں کھلائے تو بھی اُسے کھلانا 44