ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 59
لاویں حالانکہ ہماری آرزو ہے کہ خدا ہم کو ان بندوں میں داخل کرے جو نیکوکار ہیں۔66 (براہین احمدیہ صفحہ 577) اسی طرح قرآن پاک سورہ بنی اسرائیل آیات 108 تا 110 کا ترجمہ ہے۔” جولوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے صاحب علم ہیں جب اُن پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خدا تخلف وعدہ سے پاک ہے ایک دن ہمارے خداوند کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا اور روتے ہوئے مونہہ ( منہ ) پر گر پڑتے ہیں اور خدا کا کلام اُن میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے“۔(براہین احمدیہ صفحہ 578) مدینہ میں وہاں کے سیاسی حالات کی ابتری نے بھی اسلام کی طرف رُخ پھیرنے میں مدد دی۔حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے۔” بعاث کی جنگ تھی جسے اللہ عز وجل نے اپنے رسول اللہ کے لئے خاص طور پر پیش خیمہ بنایا تھا رسول اللہ مدینہ تشریف لائے اور حالت یہ تھی کہ مدینہ والوں کی جمعیت بکھر چکی تھی اور ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔( بخاری باب 15 حدیث 3652) آپ کے اصحاب کے نیک نمونہ کا بھی اسلام پھیلانے میں بہت دخل تھا آپ نے ہجرت سے پہلے حضرت ابوذر غفاری" کو معلم بنا کر مدینہ بھیجا تھا انہوں نے جاکر اسلام کی صدا بلند کی تو نصف لوگ تو اُسی وقت مسلمان ہو گئے نصف نے کہا ہم حضور کی ہجرت کے بعد اسلام لائیں گے چنانچہ آپ مدینہ آئے تو وہ لوگ بھی اسلام لے آئے ان کو دیکھ کر قبیلہ اسلم نے بھی اسلام کے آگے سر جھکا دیا۔(مسلم کتاب الفضائل باب ابی ذرجلد 7 صفحہ 54) 59