ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 39 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 39

بڑی دانائی سے وقت پر ایسے سب دروازے بند کر دئے جن سے رقابت یا مخالفت اندر آ سکتی تھی۔بنونجا ر سے عبد المطلب کی والدہ سلمی کا تعلق تھا اور یہی خصوصیت آپ کے انتخاب کا باعث بنی۔مدینہ میں اگر چہ ہر طرف عید کا سماں تھا مگر بنو نجار کے محلے میں زیادہ جوش و خروش تھا لوگ ہتھیار لگائے ہوئے دونوں طرف قطاروں میں کھڑے تھے بچیاں اپنی خوشی کا اظہار دف بجا بجا کر کر رہی تھیں۔نحن جوارٍ مِنْ بنی نجار يا حبذا محمدا مِنْ جارٍ ہم قبیلہ بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اور ہم کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ محمد رسول اللہ ہمارے محلہ میں ٹھہرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔آپ ان نفھمے الاپنی بچیوں کے قریب تشریف لائے بڑے پیار سے انہیں مخاطب ہو کر فرمایا " کیا تم مجھے چاہتی ہو وہ بیک زبان بولیں ”جی ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا میں بھی تمہیں چاہتا ہوں“ مشتاقانِ دین کے لئے یہ دن بہت خوشیوں کا دن تھا رسول اللہ اُن کی بستی میں تشریف لائے تھے اور اب بستی میں سے ایک خاص محلے میں تشریف لا چکے تھے اب بنو نجار کے کسی گھرانے کو یہ شرف ملنے والا تھا کہ آپ اُسے اپنی قیام گاہ کے لئے پسند فرمالیں ذوق وشوق سے بے تاب ہو ہو کر لوگ آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے اور درخواست کرتے یا رسول اللہ ہماری جان مال گھر سب کچھ آپ کا ہے ہم آپ کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں۔آنحضور صلی یا اسلام نے فرمایا 39