ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 28
مدینے میں آمد مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں گہما گہمی تھی کسی بہت بڑے مہمان کا انتظار تھا۔بچے بوڑھے جوان مردعورتیں اپنے اپنے انداز میں جوش و مسرت کے ساتھ تیاریوں میں مصروف تھے اُنہیں اطلاع مل چکی تھی کہ اُن کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفی صلی ایتم مکہ سے روانہ ہو چکے ہیں۔روانگی کاعلم تو ہو گیا تھا مگر پہنچنے کے معین وقت کا علم نہیں تھا۔ایک تو پیارے آقا نے مکہ سے مدینہ ہجرت کا پروگرام نہایت راز داری سے بنایا تھا دوسرے تین دن غار ثور میں قیام رہا مدینہ والے سراپا انتظار تھے۔مگر صحیح اندازہ نہ کر سکتے کہ آنحضور کب تشریف لائیں گے۔مدینہ میں خوش آمدید - مرحبا - جاء رسول الله - جاء رسول الله - رسول الله آگئے۔رسول اللہ آگئے کے نعرے لگ رہے تھے ساری فضا روح پرور نعروں سے گونج رہی تھی۔شوق کا یہ عالم تھا کہ شہر میں رُک کر انتظار مشکل ہو گیا۔لوگ گروہ در گروہ، روزانہ مدینہ سے باہر میلوں تک آگے آکر آپ کے استقبال کے لئے نکلتے جشن کا سا سماں ہوتا لیکن شام ہونے پر اس امید کے ساتھ واپس چلے جاتے کہ اگلی صبح تو آپ ضرور ہی آجائیں گے۔اس راستے میں کچھ بلندی پر ایک ہموار جگہ تھی جسے حرہ کہتے تھے یہاں چڑھ کر دور دور تک راستہ دیکھا جاسکتا تھا آپ کی پہلی جھلک دیکھنے کے شیدائی وہاں آکر بیٹھ جاتے مگر دھوپ تیز اور نا قابل برداشت ہو جاتی تو واپس چلے جاتے۔رسول خدا سی سی ایم کے انتظار میں آنکھیں بچھانے والے یہ لوگ کون تھے آپ سے کیوں اتنی محبت کرتے تھے کہ کڑکتی دھوپ کی پرواہ کئے بغیر پہروں ٹیلے پر بیٹھ کر اس مسافر کا رستہ دیکھتے جس کو اُس کے ہم وطنوں نے تکلیفیں دے کر شہر سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا جس کے سر کی 28