ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 23
تمہاری بکریاں دودھ دیتی ہیں کیا تم دودھ دوھ سکتے ہو اُس نے کہاں : ہاں آپ نے کہا تھنوں کو جھاڑ کر صاف کرلو۔پھر ہاتھ صاف کروائے اور دودھ دوھنے کو کہا حضرت ابوبکر کے پاس ایک چھا گل تھی۔جس کے اوپر ایک کپڑا بندھا ہوا تھا اس میں پانی تھا آپ نے دودھ پر اس طرح پانی ڈالا کہ وہ خوب ٹھنڈا ہو گیا پھر اپنے دوست کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے خوب سیر ہو کر پیا۔حضرت ابوبکر کو بہت خوشی ہوئی ایک تو دودھ میسر آ گیا پھر آپ نے پسند فرمایا۔آپ نے پوچھا کیا ابھی چلنے کا وقت نہیں آیا شام ہو چکی تھی آپ آگے روانہ ہوئے۔( صحیح بخاری باب مناقب المهاجرین) آنحضور صلی ہی ایام اور حضرت ابوبکر کو مکہ سے غائب ہوئے جوں جوں وقت گذرتا جارہا تھا کفار مکہ کی مایوسی میں اضافہ ہورہا تھا۔اب وہ یہ اعلان کروار ہے تھے کہ کوئی اگر انہیں جان سے ماردے گا یا قید کر کے پکڑ کر لے آئے گا اُسے بہت بڑا انعام دیا جائے گا۔۔۔۔جگہ جگہ ٹولیوں میں یہی باتیں ہو رہی تھیں۔ان میں ایک گروہ میں ایک شخص سراقہ بن مالک جعشم بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے باتوں باتوں میں کہا کہ میں نے ابھی سمندر کے کنارے کچھ آدمی جاتے دیکھے ہیں میرا خیال ہے کہ وہی ہوں گے محمد اور اُس کے ساتھی۔سراقہ کو یہ بات دل کو لگی ہو نہ ہو یہ شخص جن مسافروں کا ذکر کر رہا ہے وہی ہوں جن کو پکڑنے پر انعام واکرام کا چرچا ہورہا ہے۔یہ سوچتے ہی اس خیال سے کہ کسی کا دھیان ادھر نہ جائے بے پروائی سے کہا کہ وہ تو فلاں فلاں ہیں ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں۔یہ کہہ کر پھر سیدھا گھر گیا اور اپنی خادمہ سے کہا میرا گھوڑا تیار کر کے گھر کے پچھواڑے میں کھڑا کر دو اس کے بعد کا ماجرا سراقہ نے اس 23