ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 19 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 19

ایک گائیڈ عبداللہ بن اریقط جو قبیلہ بنی الدیل کا ایک شخص تھا اور اجرت پر راستہ بتانے کا کام کرتا تھا۔دو اونٹنیاں لے کر غار ثور کے پاس پہنچ گیا۔وہ مسلمان نہیں تھا مگر قابل اعتماد تھا۔دونوں مسافروں نے اونٹنیاں اُس کے حوالے کر کے منصوبہ طے کر لیا تھا۔ایک اونٹنی پر جس کا نام القصوئی بیان ہوا ہے، حضرت محمد مصطفی سال ہی تم اور وہ گائیڈ سوار ہوئے اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابوبکر اور عامر بن فہیر ہ سوار ہوئے۔( خمیس وزرقانی) مدینہ کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے کہا خدا کی لعنت ان شہر والوں پر جنہوں نے اپنے نبی کی مخالفت کی اور اُس کو شہر سے نکال دیا آپ نے فرمایا ” ایسا مت کہو رسول اللہ نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اُس مقدس شہر پر جس میں آپ پیدا ہوئے ، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسمعیل کے زمانہ سے آپ کے آباؤ اجداد رہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔”اے مکہ کی بستی ! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے“ اُس وقت حضرت ابو بکر نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔“ ( دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 135) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو ایسے تحریر فرمایا ہے۔آنحضرت صلی یا ایتم نے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک سخت دل کا فروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اُٹھا ئیں اور وہ دیکھ دیکھے کہ بجز اُن برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص ان دکھوں کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس مدت میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت الم اسلام کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بارز دوکوب کر کے موت کے قریب 19