ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 14
غار ثور میں پہلے حضرت ابوبکر داخل ہوئے اور قدرے جھاڑ پونچھ کی تنکے وغیرہ اکھٹے کر کے ایک طرف کئے صفائی کے دوران حضرت ابو بکر کو کچھ سوراخ نظر آئے جو آپ نے اس خیال سے بند کر دئے کہ کہیں کوئی سانپ وغیرہ نکل کر تکلیف کا باعث نہ بنے۔آنحضور لمبا فاصلہ پیدل طے کر کے تشریف لائے تھے آرام فرمانے کے لئے لیٹ گئے حضرت ابوبکر کی ران کو تکیہ بنایا تھکے ہوئے تو تھے ہی لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی اتنے میں حضرت ابوبکر کو ایک اور سوراخ نظر آ گیا۔اب آپ ہل تو نہیں سکتے تھے سوراخ پر اپنا پاؤں جما کر رکھ دیا۔وہ کسی سانپ کا بل تھا۔سانپ نے حضرت ابوبکر کے پاؤں پر کاٹ لیا۔شدید تکلیف محسوس ہوئی مگر حرکت نہ کی۔اللہ تعالیٰ کے رسول اُن کے سہارے آرام فرمارہے تھے ہر تکلیف پیچ تھی۔مگر درد بڑھا تو باوجود ضبط کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔آنسو حضرت اقدس کے چہرہ مبارک پر گرا تو آپ کی آنکھ کھل گئی اپنے دوست کی طرف دیکھ کر پوچھا ابوبکر یہ تمہیں کیا ہوا؟“ مجھے سانپ نے ڈس لیا ہے فداہ ابی وامی آپ نے سن کر اپنا لعاب دہن تکلیف کی جگہ پر لگا دیا۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے تکلیف دور ہو گئی۔اُدھر کفار مکہ میں کھلبلی مچی ہوئی تھی کوئی کہہ رہا تھا ہم ساری رات درزوں سے جھانک کر دیکھتے رہے ہیں وہ اپنے بستر پر تھے صبح ہونے پر کہاں غائب ہو گئے۔کوئی کہہ رہا تھا ہم نے انہیں شروع رات میں جاتے ہوئے دیکھا تھا مگر عقل پر ایسے پتھر پڑے کہ سمجھا وہ اس وقت نکل کر کیسے جا سکتے ہیں کوئی اور ہوگا۔غم و غصے کی آندھی پورے شہر میں چل رہی تھی خفت اور شرمندگی نے اندھا کر دیا تھا صدمے کے مارے کھسیائے ہوئے اور تو کچھ نہ کر سکے یہ اعلان 14