ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 13
کریم صلہ تم نہیں تب انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی لی کہ ہم جاچکے ہیں اور اُن کے لئے اب سوائے ناکامی کے کچھ باقی نہیں رہا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه 510) وہ جھنجھلا کر حضرت علی کو مارنے لگے کچھ لوگ جن میں ابو جہل بھی شامل تھا حضرت ابوبکر کے مکان پر گئے اور شور مچایا کہ ابوبکر کہاں ہیں؟ ان کی بیٹی اسماء نے جواب دیا کہ اُسے علم نہیں کہ اُس کے ابا جان کہاں ہیں۔اُن کو اس جواب پر بہت غصہ آیا۔طیش میں آکر اتنے زور کا تھپڑ مارا کہ اسماء کے کان کی بالی کو کو پھاڑتی ہوئی دور جا گری۔محاصرہ کرنے والوں کا خیال ہوگا کہ اُن کا شکاررات کے آخری حصے میں یا بہت صبح گھر سے باہر نکلے گا اس لئے ابھی غافل بیٹھے تھے کہ آپ اُن کے درمیان سے اُن کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے یعنی اُن کی شکست اور رسوائی کا سامان کرتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے اور ذکر الہی کرتے ہوئے بالکل تنہا ملکہ کی گلیوں سے تیز تیز چلتے ہوئے اپنے شہر کی آبادی سے باہر تشریف لے آئے۔حضرت ابوبکر بھی راستے میں آپ سے آملے اب ان دو مقدس مسافروں کی منزل جبل تو تھی۔جبل ثور مکہ سے جنوب کی جانب تین میل کے فاصلے پر ہے۔پہاڑ کی چوٹی قریباً ایک میل بلند ہے یہ ایک بنجر اور ویران پہاڑی ہے جس پر بہت بلندی پر ایک غار، غار ثور کے نام سے مشہور ہے اس غار کا راستہ پتھریلا اور غیر ہموار ہے۔اس کی لمبائی اور چوڑائی دو تین گز ہے اس میں داخل ہونے کی جگہ کھلی اور چوڑی ہے چڑھائی بہت مشکل ہے۔آنحضور صلی یا پی ایم کے دونوں پاؤں چلتے چلتے زخمی ہو گئے ویسے بھی آپ اس خیال سے پنجوں کے بل چل رہے تھے کہ قدموں کے نشان نمایاں نہ ہوں ایک وقت پر تو آپ کی تکلیف دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اُٹھالیا تھا یہ غاران دونوں مقدس احباب کے قیام کی وجہ سے یاد گا ر اہمیت اختیار کر گئی۔13