ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 3
علیہ السلام کے نویں بیٹے کا نام تیا تھا ( پیدائش باب 25) تیا کی اولا د مدینہ کے نواح میں آباد ہوئی تھی۔حضرت یسعیاہ نے دوان اور تیما کی نسلوں کو جو نواح مدینہ میں آباد تھیں مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ کا الہام سنایا کہ ایک زمانہ میں قریش کے مظالم سے تنگ آکر نبی پاک کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑے گی تمہارا فرض ہے کہ تم ان کے استقبال کے لئے آگے بڑھو اور اپنی آنکھوں کو فرش راہ کرو اور روٹی اور پانی لے کر اُن کے ملنے کو نکلو یعنی اپنے گھروں کے دروازے اُن کے لئے کھول دو اور اُن کی خدمت کو اپنے لئے برکت اور رحمت کا باعث سمجھو۔(یسعیاہ باب 21 آیت 13 تا 17 تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 561) میثرب وہ شہر تھا جس میں یہودی اور بت پرست آباد تھے۔مسلمانوں کی آمد سے اس شہر کا نام بدل گیا مسلمان اسے مدینۃ الرسول اور مدینتہ النبی کہتے جس کا مطلب ہے رسول کا شہر نبی کا شہر۔بار بار یہ نام استعمال ہونے سے الرسول اور النبی کے الفاظ کی ضرورت نہ رہی کیونکہ سب جانتے تھے کہ مدینہ کہنے سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر ہے اس عظیم الشان نبی کے نام سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس شہر کا نام بھی عزت سے لیا جاتا اور اسے مدینہ منورہ کہا جا تا یعنی روشن شہر۔جبکہ اس کے پہلے نام یثرب کا مطلب ہلا کت تھا۔آہستہ آہستہ یہ نام لوگوں کو بھول گیا اور صرف کتابوں میں لکھا رہ گیا جبکہ پوری دنیا کو روشن کرنے والا مدینہ منورہ رہتی دنیا تک کے لئے عزت والا شہر بن گیا۔مدینہ منورہ میں اُس وقت اسلام اور مسلمانوں کو سکون میسر آیا جب خود اُن کے شہر میں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔مدینہ کی طرف ہجرت کوئی اکا دُکا واقعہ نہ رہا بلکہ اکثر مسلمان اپنے بیوی بچوں سمیت مختصر سامان لے کر مکہ چھوڑ دیتے پہلے کہیں کہیں گھر اپنے مکینوں سے خالی ہوئے پھر ایک ایک گلی میں کئی کئی مکانوں میں تالے پڑ گئے مکہ میں صرف وہ لوگ رہ گئے جو اتنے کمزور تھے کہ 3