ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 2
ملتے ہی خوش ہو کر مگر چپکے چپکے مکہ سے نکلنے کے منصوبے بنانے لگے۔اور خفیہ خفیہ طریق پر سفر کرتے ہوئے میثرب اور دوسرے شہروں کا رُخ کیا، زیادہ تر مسلمان یثرب پہنچے۔وہاں مسلمانوں نے اپنے وطن چھوڑ کر آنے والوں کا خوشی سے استقبال کیا۔اپنے گھروں میں جگہ دی اور حقیقی بھائیوں جیسا سلوک کیا۔یثرب کے رہنے والے بھی بہت عرصہ پہلے یمن کے علاقے سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔یمن سے انہیں اس لئے آنا پڑا کہ وہاں ایک دفعہ بہت شدید سیلاب آیا۔اس قدر شدید کہ وہاں رہنا مشکل ہو گیا جب وہاں رہنا مشکل ہو گیا تو رہائش کی اچھی جگہ کی تلاش میں سفر کرتے ہوئے یمن کے دو بھائی جن کے نام اوس اور خزرج تھے یثرب پہنچے۔یہ علاقہ انہیں پسند آیا۔اُس وقت اُن کے آنے سے پہلے جو لوگ یثرب میں رہتے تھے وہ زیادہ تر یہودی تھے۔وہ بڑے مالدار اور بااثر لوگ تھے۔اوس اور خزرج نے بھی وہاں رہنا شروع کیا آل اولا د بڑھی تو اُن کے قبیلے اپنی اپنی بستیوں میں رہنے لگے۔۔۔یہودیوں سے میل جول کی وجہ سے اُن پر یہ اثر ہوا کہ محنت سے کام کرنے لگے جس سے اُن کی مالی حالت بہتر ہو گئی۔یہودی ایک خدا کو مانتے تھے اپنی مذہبی کتاب توریت سے رہنمائی لیتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک عظیم الشان نبی انسانوں کی اصلاح کے لئے تشریف لائیں گے۔اوس اور خزرج قبائل بت پرست تھے مگر مذہبی خیالات پر یہودیوں کا اثر ہوا اور وہ بھی ایک نبی کا انتظار کرنے لگے۔اُن کے بزرگوں نے بھی ایک نبی کی آمد کی بشارت دے رکھی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں نبی کے استقبال کی تاکید موجود تھی۔حضرت ابراہیم کا ایک بیٹا لقیان تھا جو آپ کی تیسری بیوی قطورا کے بطن سے تھا لقیان کے بیٹے کا نام دوان تھا ( پیدائش باب (21) دو ان کی اولا دیمن میں آباد ہوئی تھی حضرت اسمعیل 2