ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 73 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 73

بات ہے مدینہ میں کچھ شور سا سنائی دیا لوگ گھبرا کر گھروں سے نکل آئے اور جس طرف سے آواز آئی تھی اُدھر کا رُخ کیا ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ دیکھا سامنے سے آنحضور صلی اشیا پریتم ابوطلحہ کے گھوڑے کی نگی پیٹھ پر سوار تشریف لا رہے ہیں آپ نے قریب آکر صحابہ سے فرمایا : میں دیکھ کر آیا ہوں کوئی فکر کی بات نہیں۔کوئی فکر کی بات نہیں۔“ ( بخاری جلد دوم صفحہ 82 حدیث 126 ) لوگ سوکر اُٹھے تھے انہیں شور کی طرف جانے میں کچھ دیر لگی مگر آپ جاگ رہے ہوں گے آپ کو اپنے ساتھیوں کی حفاظت کا فکر رہتا آپ بہت بہادر بھی تھے اکیلے ہی دوسروں کو جگائے بغیر خطرے کی طرف تشریف لے گئے پہلے توصرف اہل مکہ کی طرف سے خطرہ رہتا اب تو سارا عرب ہی مسلمانوں کے خلاف ہو گیا قریش کے قافلے جو تجارت کی غرض سے دوسرے شہروں کی طرف جاتے راستے میں اسلام کے خلاف زہر بھی پھیلاتے رہتے۔حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی ا یہ اہم اور آپ کے صحابہ ہجرت کر کے مدینہ آئے اور انصار نے اُنہیں پناہ دی تو تمام عرب یک جان ہو کر اُن کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا اس وقت مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ رات کو بھی ہتھیار لگا کر سوتے تھے اور دن کو بھی ہتھیار لگائے رہتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہو جائے اور وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں جب ہم رات کو امن کی نیند سو سکیں گے اور سوائے خدا کے ہمیں کسی کا ڈر نہ ہوگا۔حاکم بحوالہ لبابُ النُّقُولِ فِي أَسباب النزول ) 73