ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 71 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 71

جو اسلامی نظام قائم ہونے کی وجہ سے اپنی سرداری کا موقع کھو کر اندر ہی اندر جل رہا تھا۔اُس نے اسلام سے بظاہر تعلق جوڑا ہوا تھا مگر اندر سے بالکل آگ تھا مشرکین مکہ نے اُس کی اس حالت سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اُسے خط لکھا۔تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد مالی یا یہ تم کو پناہ دی ہے اور ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو تم اُس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے خلاف جنگ کرو یا کم از کم اسے اپنے شہر سے نکال دوور نہ ہم اپنا سارالا ولشکر لے کر تم پر حملہ آور ہو جائیں گے اور تمہارے سارے مردوں کو تہ تیغ کردیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے لئے جائز کر لیں گے۔(ابوداؤد کتاب الخراج باب في خبر النفير ) عبد اللہ اور اس کے ساتھیوں کو شہ ملی تو آپ سے جنگ پر آمادہ ہو گئے مگر آپ جنگ بعاث اور اُس کی خوں ریزی کا حوالہ دے کر اُسے جنگ سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔کافر پے در پے زخم کھائے ہوئے تھے مسلمان ہمیشہ اُن کے ہاتھ سے نکل جاتے جس سے وہ مزید طیش میں آکر پہلے سے زیادہ خطرناک منصوبے بناتے۔اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے جو ہجرت کے کچھ عرصہ بعد ہوا۔قبیلہ اوس کے رئیس اعظم سعد بن معاذ مسلمان ہوکر عمرہ کی غرض سے مکہ گئے جہاں کعبے کے پاس ابو جہل نے انہیں دیکھ لیا اور سخت برا بھلا کہا اور دھمکی دی کہ اگر محمد کی طرفداری سے باز نہ آئے تو کعبہ کا طواف نہ کر سکو گے۔اگر آج تمہارے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو بیچ کر نہ جاتے۔( بخاری کتاب المغازی) کفار مکہ کا مسلمانوں کے خلاف غم و غصہ اس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے اسی زمانہ کی بات ہے ولید بن مغیرہ ( خالد بن ولید کے والد ) جو مکہ کا ایک با اثر معزز رئیس تھا بیمار ہو گیا۔جب اُس نے دیکھا کہ موت قریب ہے تو بے اختیار ہو کر رونے لگا اس وقت مکہ کے بڑے بڑے رئیس اس کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے حیران ہو کر اس کے رونے کا سبب پوچھا تو ولید نے کہا 71