ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 70
آپ نے فرمایا پھر اپنی عزت نفس کی حفاظت کرو یعنی محنت وغیرہ کا کام کریں آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ آپ کے عزیز دوسرے مسلمانوں پر (مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 175) بوجھ بنیں۔قرآنِ کریم کی سورہ تو بہ میں مہاجرین وانصار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ذکر ہے اور مخالفین و منافقین سے ہوشیار بھی کیا گیا ہے۔آیات 99 تا 101 کا ترجمہ ہے۔”اور ( ان بادیہ نشینوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کی قربتوں کا ذریعہ اور رسول کی دعائیں لینے کا ایک سبب سمجھتے ہیں۔سنو کہ یقیناً یہ ان کے حصول قرب کا ذریعہ ہی ہے۔اللہ ضرور انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا یقینا اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے اولین اور وہ لوگ جنہوں نے حُسنِ عمل کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں۔یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔اور تمہارے اردگرد کے بادیہ نشینوں میں سے منافقین بھی ہیں اور اسی طرح مدینہ میں بسنے والوں میں سے بھی۔وہ نفاق پر جم چکے ہیں تو انہیں نہیں جانتا مگر ہم جانتے ہیں ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ عذاب عظیم کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔“ قرآنِ پاک نے مکہ کے منافقین کے نقصان دہ ارادوں سے آگاہ کیا۔مکہ والے حسد کی آگ میں جل رہے تھے۔اور سر جوڑ کے بیٹھے رہتے تھے کہ کس طرح آنحضور سالی یہ تم سے بدلہ لیں۔انہیں مدینہ میں اپنے مطلب کا ایک آدمی نظر آیا یہ خزرج کا رئیس عبد اللہ بن ابی سلول تھا۔70