ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 1
ہجرت مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کا مقام ملے قریباً تیرہ (13) سال ہو چکے تھے ان تیرہ (13) سالوں میں مکہ کے اچھی فطرت کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا مگر ان کی تعداد ستر (70) سے زیادہ نہ ہوئی تھی اور مخالفین کی تعداد لاکھوں میں تھی اور طاقت بہت زیادہ تھی۔وہ اپنی ساری طاقت سے مسلمانوں کی کھلی کھلی دشمنی پر اُترے ہوئے تھے وہ مسلمانوں کی جانیں، مال ، اولادیں، عزت آبروسب کچھ برباد کرنے کیلئے پورا زور لگا رہے تھے۔ایسے میں یثرب کے مسلمانوں کی طرف سے محبت اور امن کی خوشگوار ہوائیں آئیں تو آپ نے مکہ کے مسلمانوں کو میٹر ب جانے کی اجازت دے دی۔آپ نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ہجرت کر رہے ہیں رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ إِنِّي أَهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ بِهَا نَخْلِ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوِ الْحَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبَ ( بخاری جلد ثانی باب ہجرت النبي وَ أَصحابه إِلَى الْمَدِينَةِ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے جس میں کھجوروں کے درخت ہیں۔پس میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ زمین یمامہ یا زمینِ حجر ہے مگر وہ مدینہ نکلا یعنی یثرب۔“ 66 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۶۹) مسلمانوں کی خواہش تھی کہ کھل کر تبلیغ اسلام کریں۔مکہ کے گھٹے ہوئے ماحول میں پورے جوش و جذ بہ سے تبلیغ ممکن نہ تھی۔جو مسلمان مکہ سے باہر دوسرے شہروں میں گئے تھے ان کی تبلیغ کے واقعات سننے میں آرہے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت 1